پاکستان کرکٹ میں ہر نئے کھلاڑی کے لیے کامیابی کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ حسن نواز کی حالیہ سنچری پر سب تعریفیں کر رہے ہیں، اور بلاشبہ، سنچری بنانا کسی بھی بلے باز کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ لیکن اگر ہم اس اننگز کو تکنیکی نظر سے دیکھیں تو کچھ ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جو نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ حسن نواز کی اننگز میں چند مثبت پہلو ضرور تھے، مگر اس کے ساتھ کچھ واضح خامیاں بھی نظر آئیں، جنہیں نظرانداز کرنا مستقبل میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
فاسٹ باؤلنگ کے خلاف کھیلنے کا انداز
حسن نواز نے اپنی اننگز کے دوران فاسٹ باؤلرز کے خلاف کئی باؤنڈریز لگائیں، لیکن اگر غور کریں تو ان میں سے زیادہ تر شاٹس غیر روایتی اور غیر یقینی نظر آئیں۔ ایسا لگا کہ وہ محض بلا گھما رہے ہیں اور قسمت نے ان کا ساتھ دیا۔ یہی غیر یقینی انداز ان کے پہلے دو میچوں میں ان کے آؤٹ ہونے کی وجہ بنا تھا، مگر اس بار وہ چل گئے۔ یہی چیز پاکستانی بلے بازوں کی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے کہ وہ تکنیکی طور پر پختہ نہیں ہوتے اور کچھ میچز میں کامیاب ہو کر خود کو ثابت شدہ بلے باز سمجھنے لگتے ہیں۔
اگر ہم ان کے شاٹس کو گہرائی سے دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی کئی باؤنڈریز نیوزی لینڈ کے گراؤنڈز میں تو چھکے چوکوں میں بدل گئیں، مگر ضروری نہیں کہ یہی شاٹس دنیا کے دیگر میدانوں میں بھی کامیاب ہوں۔ دیگر ممالک میں زیادہ بڑی باؤنڈریز، مختلف وکٹیں اور فاسٹ باؤلرز کی متنوع لائن اور لینتھ ایسے غیر متوازن اسٹروکس کو ناکام بنا سکتی ہے۔ ان کے شاٹس میں ایک بڑا مسئلہ یہ نظر آیا کہ اکثر شاٹس میں ان کا بلا، ٹانگ، اور چہرہ بالکل مختلف سمتوں میں نظر آئے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ان کے کھیل میں بنیادی تکنیکی کمی موجود ہے۔
اسپنرز کے خلاف کارکردگی
جہاں تک اسپن باؤلنگ کا تعلق ہے، حسن نواز نے نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر اسپنرز کو نسبتاً بہتر انداز میں کھیلا، لیکن یہاں ایک اور پہلو قابل غور ہے۔ نیوزی لینڈ کی وکٹیں عام طور پر اسپنرز کے لیے زیادہ مددگار نہیں ہوتیں، اور ایسے حالات میں اسپنرز کے خلاف اچھا کھیلنا کوئی بڑی کامیابی نہیں۔ اصل امتحان تب ہوگا جب وہ ایشیائی پچوں پر دنیا کے بہترین اسپنرز کے خلاف کھیلیں گے، جیسے کہ روی چندرن ایشون، نتھن لیون، یا راشد خان۔ اگر حسن نواز کو طویل مدتی کامیابی حاصل کرنی ہے تو انہیں اپنی تکنیک کو مزید بہتر بنانا ہوگا تاکہ وہ اسپنرز کے خلاف بھی اسی مہارت سے کھیل سکیں جیسے دنیا کے بہترین بلے باز کھیلتے ہیں۔
فاسٹ باؤلرز کے خلاف حقیقی امتحان
دنیا کے بہترین فاسٹ باؤلرز ہمیشہ نئے بلے بازوں کو دو بنیادی طریقوں سے آزماتے ہیں:
1. آف اسٹمپ کے باہر مستقل اچھی لینتھ پر گیند ڈال کر – تاکہ بلے باز کو آف سائیڈ پر کھیلنے میں مشکل ہو اور وہ سلپ میں کیچ دے بیٹھے۔
2. جارحانہ باؤنسرز کے ذریعے – تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا بلے باز کے پاس گیند کو چھوڑنے یا مناسب انداز میں کھیلنے کی مہارت ہے یا نہیں۔
یہ دونوں ہی کمزوریاں حسن نواز کے کھیل میں نمایاں ہیں، اور یہ وہی مسائل ہیں جو حیدر علی جیسے کھلاڑیوں کو پیچھے دھکیل چکے ہیں۔ اگر وہ ان خامیوں پر کام نہیں کرتے تو جیسے ہی بین الاقوامی سطح پر باؤلرز انہیں پڑھ لیں گے، ان کی کمزوریاں بار بار ایکسپوز ہوں گی، اور وہ مستقل کارکردگی دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
"چل گیا" ٹائپ بلے بازوں کا مسئلہ
پاکستان کرکٹ کو ہمیشہ ایسے بلے بازوں کی تلاش رہتی ہے جو بڑے ٹورنامنٹس میں دباؤ کا سامنا کر سکیں اور ہر طرح کی کنڈیشنز میں اچھی کارکردگی دکھا سکیں۔ بدقسمتی سے، ہمارے ہاں ایسے "چل گیا" ٹائپ کے بلے باز زیادہ نظر آتے ہیں، جو کسی ایک میچ میں اچھی اننگز کھیل کر خود کو ثابت شدہ سمجھنے لگتے ہیں، لیکن جب اصل امتحان آتا ہے، تو وہ دباؤ میں بکھر جاتے ہیں۔
آئی سی سی ٹورنامنٹس میں کامیابی کے لیے صرف ایک اچھی اننگز کافی نہیں ہوتی، بلکہ مسلسل اچھی کارکردگی اور تکنیکی مہارت درکار ہوتی ہے۔ اگر حسن نواز کو مستقبل میں پاکستان کرکٹ کے لیے ایک مضبوط ستون بننا ہے تو انہیں اپنی بنیادی خامیوں پر فوری طور پر کام کرنا ہوگا، ورنہ وہ بھی ان کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے جو ایک دو میچز میں چمکنے کے بعد گم ہو جاتے ہیں۔
اچھے اوپنر کی خصوصیات اور سیکھنے کے پہلو
ایک اچھے اوپنر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ فاسٹ باؤلنگ کے خلاف اپنی تکنیک کو بہتر بنائے اور رفتار کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے۔ سعید انور کی مثال ہمارے سامنے ہے، جو کلائیوں اور اینگل کا بہترین استعمال کر کے بغیر زور لگائے گیند کو باؤنڈری کے پار بھیجنے کی مہارت رکھتے تھے۔
اسی طرح، صائم ایوب بھی ایک ایسا بلے باز ہے جو بال کی پیس کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا جانتا ہے۔ حسن نواز کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان جیسی مہارت پیدا کریں اور بلا ہتھوڑے کی طرح چلانے کے بجائے سمارٹ کرکٹ کھیلنا سیکھیں۔
نتیجہ: مستقبل میں حسن نواز کے لیے کیا چیلنجز ہیں؟
حسن نواز کے لیے یہ سنچری ایک اہم سنگ میل ہے، لیکن یہ کامیابی ان کی اصل قابلیت کی عکاسی نہیں کرتی۔ ان کے کھیل میں کئی تکنیکی خامیاں موجود ہیں، جنہیں جلد از جلد دور کرنا ہوگا۔ بین الاقوامی کرکٹ میں کامیابی صرف "چل جانے" پر نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ اچھی کارکردگی دکھانے پر منحصر ہوتی ہے۔
اب یہ حسن نواز پر منحصر ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو جلد پہچان کر ان پر کام کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ اپنی تکنیک کو بہتر بناتے ہیں، تو وہ پاکستان کے لیے ایک بڑا اثاثہ بن سکتے ہیں، لیکن اگر وہ اپنی سنچریوں پر ہی خوش ہو گئے، تو شاید ان کا کریئر بھی دیگر غیر مستقل مزاج کھلاڑیوں کی طرح زیادہ لمبا نہ چلے۔
پاکستان کرکٹ کو تکنیکی طور پر مضبوط اور ذہین بلے بازوں کی ضرورت ہے، اور امید ہے کہ حسن نواز اس چیلنج کو قبول کر کے اپنی کرکٹ کو اگلے لیول پر لے جانے میں کامیاب ہوں گے۔
0 Comments